13 اکتوبر 2026 - 10:58
یمن کے ساتھ ثالثی کے لیے سعودی عرب نے اب عراق سے مدد مانگ لی

لبنانی ویب سائٹ العہد نے عراقی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور صنعا کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے اس بار بغداد سے ثالثی کی درخواست کی ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب یمن کی جانب سے بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ کے تناظر میں مختلف ممالک سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ برسوں سے جاری جنگ کے دلدل سے نکلنے اور تنازع کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کا راستہ تلاش کیا جاسکے۔

العہد نے عراقی وزیراعظم کے دفتر سے قریبی تعلق رکھنے والے خصوصی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یمن جنگ کا معاملہ عراق کے وزیراعظم علی فالح الزیدی کے آئندہ بدھ کو طے شدہ دورۂ سعودی عرب کے دوران زیرِ بحث آسکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق، ریاض کی جانب سے بغداد کو ایسے اشارے موصول ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی حکام عراق کی ثالثی کے امکان پر غور کرنا چاہتے ہیں، تاکہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قابو میں لایا جاسکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کشیدگی 11 سال سے زائد عرصے سے جاری ہے اور صنعا کی جانب سے سعودی عرب کی اہم اقتصادی، فوجی اور حکومتی تنصیبات، جن میں آرامکو اور ریاض سمیت دیگر شہروں کے بڑے ہوائی اڈے شامل ہیں، پر حالیہ حملوں کے بعد ریاض کی تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

عراق کے گزشتہ برسوں کے دوران سعودی عرب کے ساتھ نسبتاً بہتر تعلقات رہے ہیں، جس کے باعث بغداد ماضی میں تہران اور ریاض کے درمیان بھی ثالثی کا کردار ادا کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ عراق کے یمنی حلقوں کے ساتھ بھی اچھے روابط اور باضابطہ و غیر رسمی رابطہ کاری کے ذرائع موجود ہیں۔ عراقی وزیراعظم کے دفتر سے وابستہ ذرائع کے مطابق، بغداد خطے میں اپنا مثبت کردار مضبوط بنانے اور صنعا و ریاض کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ذرائع نے کہا کہ موجودہ نازک حالات میں خطے کا مجموعی استحکام عراق کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ مزید کشیدگی اس ملک کے لیے سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی مشکلات میں اضافہ کرسکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، سعودی حکام نے عراق کے علاوہ ایران، عمان، چین اور روس سمیت دیگر علاقائی و بین الاقوامی فریقوں سے بھی رابطے کیے ہیں، تاکہ یمن کو اپنی کارروائیاں روکنے اور مذاکرات شروع کرنے پر آمادہ کیا جاسکے۔ تاہم، رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صنعا اپنے سابقہ مطالبات پر قائم ہے اور انہیں پورا کیے بغیر عارضی جنگ بندی یا امن کی کسی تجویز کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

عراقی ذرائع نے وزیراعظم الزیدی کے دورۂ ریاض کے ممکنہ التوا کے بارے میں کہا کہ تیزی سے بدلتی صورتِ حال کے باعث تمام امکانات موجود ہیں۔ ان کے مطابق، آئندہ دو دنوں میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں دورہ مؤخر ہوسکتا ہے، جبکہ صنعا کے ساتھ رابطہ کاری الزیدی اور ان کے وفد کے محفوظ طریقے سے ریاض پہنچنے میں مدد دے سکتی ہے۔

دوسری جانب، صنعا کے سیاسی ذرائع نے گزشتہ روز بتایا کہ سعودی عرب نے عمان سمیت متعدد فریقوں کے ذریعے ثالثی کی کوششیں دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی، لیکن یمن اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔ ان ذرائع کے مطابق، یمن نے عمانی ثالث کے ذریعے سعودی عرب کو اپنے واضح مطالبات پہنچا دیے ہیں اور ان پر عمل درآمد سے پہلے اپنی کارروائیاں روکنے سے انکار کیا ہے۔ سعودی میڈیا نے بھی تصدیق کی ہے کہ وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی سے رابطہ کیا۔

صنعا کی مذاکراتی ٹیم کے رکن عبدالملک العجری نے بھی سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ وہ امن معاہدے پر مکمل عمل درآمد کرے، جسے انہوں نے کشیدگی کم کرنے کا واحد راستہ قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب نے مبینہ طور پر اپنی شروع کردہ فوجی کارروائی ’’فجرِ یمن‘‘ روکنے کے بدلے یمنی حملے بند کرنے کی تجویز بھی پیش کی تھی، تاہم یمنی حکام نے اپنے سابقہ مطالبات پر اصرار برقرار رکھا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha